Most Popular
This Week
Install Mac OS X on Intel/AMD PC using iATKOS v7
How to remove "showing post with label" in Blogger
How to add Google Buzz to Blogspot blog
Chat live with your blog visitors using Yahoo Pingbox
]]>Install Mac OS X on Intel/AMD PC using iATKOS v7
Description goes here, this is just a test description....read more
How to remove "showing post with label" in Blogger
Description goes here, this is just a test description....read more
How to add Google Buzz to Blogspot blog
Description goes here, this is just a test description....read more
Chat live with your blog visitors using yahoo
Description goes here, this is just a test description....read more
Latest Stories
What is new?
Comments
What They says?
تازہ ترین
ٹیکنالوجی
»
مائیکروسافٹ کی "آئی پیڈ دو اور دو سو ڈالر لو" اسکیم
مائیکروسافٹ کی "آئی پیڈ دو اور دو سو ڈالر لو" اسکیم
By Unknown On
ٹیکنالوجی
0 comments
کمپیوٹر اور سافٹ ویئر بنانے والی امریکی کمپنی مائیکروسافٹ نے امریکہ میں صارفین کو راغب کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی جس میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے استعمال شدہ آئی پیڈ کے بدلے کم از کم دو سو ڈالر مالیت کے ٹوکن حاصل کر سکیں گے۔ یہ ٹوکن صارفین مائیکروسافٹ کی مصنوعات مثلاً سرفیس آر ٹی اور سرفیس پرو ٹیبلٹ کمپیوٹر خریدنے میں استعمال کر سکیں گے۔
مائیکرو سافٹ ٹیبلٹس کی فروخت میں آئی پیڈ بنانے والی کمپنی ایپل سے بہت پیچھے ہے۔تجزیہ کاروں نے آئی پیڈز کی جگہ مائیکروسافٹ کی مصنوعات استعمال کرنے کی پیشکش کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ گارٹنر موبائل ڈیوائس کے تجزیہ کار وان بیکر کا کہنا ہے کہ لوگ مائیکروسافٹ کی اس پیشکش سے فائدہ اٹھانے کے جواب میں صرف ایک لفظ کہیں گے جو کہ ’نہ‘ ہے۔ وان بیکر کے مطابق ونڈوز کے مقابلے میں آئی پیڈز کے لیے بہت سی ایپلیکیشنز دستیاب ہیں جس کی وجہ سے ایپل کو برتری حاصل ہے۔
مائیکروسافٹ کو اپنے سرفیس ٹیبلٹ ڈیوائسز فروخت کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں مائیکرو سافٹ نے نو لاکھ ٹیبلٹس فروخت کیے جبکہ ایپل نے ایک کروڑ نواسی لاکھ آئی پیڈز فروخت کیے۔ سال کی دوسری سہ ماہی میں بھی مائیکروسافٹ صرف تین لاکھ ٹیبلٹس فروخت کر سکا تھا۔
About Unknown
Adds a short author bio after every single post on your blog. Also, It's mainly a matter of keeping lists of possible information, and then figuring out what is relevant to a particular editor's needs.

کوئی تبصرے نہیں: